مڈل ایسٹ

ایران کے وزیر خارجہ روس میں، جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی روس پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ تہران اس وقت ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

روسی دارالحکومت ماسکو پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ “تہران اور ماسکو کے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے مقصد سے” روس آئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات “جنگ کی صورتحال اور تازہ ترین پیش رفت پر بات چیت کے لیے ایک اہم موقع ہوگی”۔

عباس عراقچی کے مطابق، “مجھے یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ مشاورت اور رابطہ خاص اہمیت کا حامل ہوگا۔”

یہ دورہ عمان میں عمانی حکام سے ملاقات کے بعد کیا گیا ہے، جہاں ایران نے دوبارہ مذاکرات کے لیے علاقائی اور عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

8 اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جو ایک ماہ سے زائد جاری لڑائی کے بعد ممکن ہوئی تھی۔ یہ لڑائی امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی۔

تاہم یہ جنگ بندی پاکستان کی ثالثی سے ہونے کے باوجود اب کشیدگی کا شکار ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندی جیسے مسائل پر اختلافات برقرار ہیں۔ اسی دوران اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری تنازع بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔

سفارت کاری میں روس کا کردار

الجزیرہ کے مطابق تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے توحید اسدی نے کہا کہ روس آنے والے مرحلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہمارے پاس سفارتی حل کا ایک منظرنامہ اور تصادم کا دوسرا منظرنامہ موجود ہے، اور دونوں صورتوں میں روس کا کردار مرکزی ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مختلف مطالبات ہیں اور وہ صورتحال کے مطابق انہیں ترجیح دے رہا ہے، جن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جنگ بندی میں توسیع جیسے امور شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران سے مذاکرات کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر کے دورے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔

پاکستانی ثالثی کے حوالے سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکتا ہے اور ایک فریم ورک پر بات آگے بڑھ رہی ہے جس میں ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک بھی شامل ہوں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button