پاناما کینال نے مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران اپنی غیر جانبداری کی دوبارہ توثیق کر دی

پاناما سٹی: پاناما نے مشرق وسطیٰ جنگ کے تناظر میں اپنی نہر کی غیر جانبداری اور بحری آمدورفت کے راستوں کے تحفظ کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔
بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔
پاناما کے وزیر خارجہ جیویر مارٹینز آچا نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈون سار سے ٹیلیفونک گفتگو میں نہر کی غیر جانبداری پر دوبارہ زور دیا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سمیت عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاناما کینال کی غیر جانبداری عالمی تجارت کا ایک بنیادی ستون ہے اور اہم سمندری و توانائی راستوں میں استحکام کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں نہر سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو جنوری میں یومیہ تقریباً 34 سے بڑھ کر اب 50 تک پہنچ گئی ہے۔
پاناما کینال عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 5 فیصد حصہ سنبھالتی ہے اور اس کا زیادہ تر استعمال امریکہ اور چین کرتے ہیں، جبکہ یہ راستہ ایشیا اور امریکہ کے درمیان اہم تجارتی رابطہ فراہم کرتا ہے۔





