جنوبی ایشیا

افغانستان میں خواتین صحت کارکنان اور اساتذہ کی بڑی تعداد متاثر ہونے کا خدشہ، یونیسیف

افغانستان کو 2030 تک 25 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور صحت کارکنوں کے نقصان کا خدشہ ہے اگر لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمت پر عائد پابندیاں ختم نہ کی گئیں، یہ بات یونیسیف کی پیر کو جاری کردہ نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے خواتین کو زیادہ تر سرکاری ملازمتوں سے روک رکھا ہے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کو 12 سال کی عمر تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں سے اب تک کم از کم 10 لاکھ لڑکیاں متاثر ہو چکی ہیں اور اگر صورتحال برقرار رہی تو یہ تعداد 2030 تک دگنی ہو سکتی ہے۔ یونیسیف نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد لگائی گئی پابندیاں ختم کی جائیں۔

یونیسیف کی رپورٹ بعنوان “افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی افرادی قوت میں شرکت نہ ہونے کی قیمت” کے مطابق تدریس اور صحت کے شعبوں میں تربیت یافتہ خواتین کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2030 تک 20 ہزار خواتین اساتذہ اور 5,400 ہیلتھ ورکرز کے شعبہ چھوڑنے کا خدشہ ہے، جو 2021 کی افرادی قوت کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔ مزید یہ کہ 2035 تک 9,600 تک صحت کارکن بھی کم ہو سکتے ہیں۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ “افغانستان مستقبل کے اساتذہ، نرسز، ڈاکٹروں، دائیوں اور سوشل ورکرز سے محروم ہونے کا متحمل نہیں ہو سکتا، جو بنیادی خدمات کو برقرار رکھتے ہیں۔ اگر لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھا گیا تو یہی حقیقت بن جائے گی۔”

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین مریضوں کے علاج کے لیے خواتین ہیلتھ ورکرز ضروری ہوتی ہیں جبکہ الگ تعلیمی نظام میں لڑکیوں کے لیے خواتین اساتذہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔

یونیسیف کے مطابق اس کمی کے باعث افغانستان کی معیشت کو سالانہ کم از کم 5.3 ارب افغانی (تقریباً 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) کا نقصان ہو سکتا ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 0.5 فیصد ہے۔

یونیسیف نے زور دیا کہ افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کو مہارتوں کی تربیت کا تحفظ کرنا چاہیے اور خواتین کو لیبر مارکیٹ میں حصہ لینے کی اجازت دینی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button