توانائی کے محفوظ مستقبل کے لیے فوسل فیول سے دستبرداری اہم، کولمبیا مذاکرات میں مؤقف

سانتا مارٹا (کولمبیا): فوسل فیول کے تدریجی خاتمے سے متعلق دنیا کے پہلے عالمی مذاکرات کا آغاز ہو گیا، جہاں ممالک نے تیل اور گیس سے نکلنے کو نہ صرف ماحولیاتی ضرورت بلکہ توانائی کے تحفظ اور خودمختاری کے لیے بھی اہم قرار دیا ہے۔
اجلاس میں شریک وزراء نے ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے تناظر میں فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یورپی یونین کے ماحولیاتی نمائندے ووپکے ہوکسٹرا نے کہا کہ جنگ کے باعث یورپ کو روزانہ اربوں یورو کا نقصان ہو رہا ہے، اس لیے اب فوسل فیول سے دوری کی معاشی اور خودمختاری کی وجوہات بھی واضح ہو چکی ہیں۔
کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فوسل فیول “موت کی طرف لے جاتے ہیں”، جبکہ کئی ممالک نے توانائی کی قلت، ایندھن کی راشن بندی اور بڑھتی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی۔
برطانیہ کی نمائندہ ریچل کائٹ کے مطابق دنیا تیزی سے اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ فوسل فیول عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں، اس لیے توانائی کے محفوظ مستقبل کے لیے متبادل ذرائع اپنانا ناگزیر ہے۔
کانفرنس میں کینیڈا، ناروے، آسٹریلیا، نائجیریا اور برازیل سمیت کئی بڑے توانائی پیدا کرنے والے ممالک شریک ہیں، تاہم امریکا، چین، بھارت اور خلیجی ممالک اس میں شامل نہیں۔
یہ اجلاس اقوام متحدہ کے ماحولیاتی فورم سے ہٹ کر منعقد کیا جا رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی برادری فوسل فیول کے مسئلے پر پیش رفت نہ ہونے سے مایوس ہے۔
کانفرنس میں حتمی معاہدہ متوقع نہیں، تاہم ممالک کے لیے پالیسی تجاویز پیش کی جائیں گی تاکہ وہ بتدریج فوسل فیول کے استعمال کو کم کر کے صاف توانائی کی جانب منتقل ہو سکیں۔
ادھر فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک کوئلہ، 2045 تک تیل اور 2050 تک گیس سے توانائی کے حصول کو مرحلہ وار ختم کرے گا۔
ماہرین کے مطابق دنیا پہلے ہی صنعتی دور سے قبل کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہو چکی ہے اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 1.5 ڈگری کی حد جلد عبور ہو سکتی ہے، جس کے سنگین اور ناقابلِ واپسی ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔





