انٹرنیشنل

چین کی جانب سے اپنے پہلے جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز کی تیاری کا عندیہ

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ چین کا زیرِ تعمیر چوتھا طیارہ بردار بحری جہاز ممکنہ طور پر ملک کا پہلا جوہری توانائی سے چلنے والا کیریئر ہو سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق “ان ٹو دی ڈیپ” کے عنوان سے جاری یہ ویڈیو پیپلز لبریشن آرمی نیوی کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر پیش کی گئی، جس میں چینی بحریہ کی ساحلی دفاعی قوت سے عالمی سمندری طاقت تک کے سفر کو نمایاں کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں چین کی بلو واٹر نیوی کی صلاحیتوں کو بھی دکھایا گیا ہے، جو دور دراز سمندروں میں طویل فاصلے تک کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں مغربی بحرالکاہل میں ہونے والی مشقوں اور جدید عسکری ساز و سامان کے مناظر شامل ہیں۔

ایک مناظر میں کمپاس کو مختلف نسلوں کے نیول افسران کے درمیان منتقل ہوتے دکھایا گیا ہے، جن کے نام چین کے تین موجودہ طیارہ بردار جہازوں لیاؤ ننگ، شان ڈونگ اور فو جیان پر رکھے گئے تھے۔ تاہم ویڈیو میں چوتھے نام “ہی جیان” نے خاص توجہ حاصل کی ہے، جسے بعض ماہرین ممکنہ طور پر جوہری طاقت سے چلنے والے جہاز کی طرف اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی زبان میں “ہی” کا تلفظ “جوہری” سے مشابہ جبکہ “جیان” کا مطلب جہاز ہے۔

اگرچہ چین نے باضابطہ طور پر کسی نئے طیارہ بردار جہاز کی تعمیر کی تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمال مشرقی شہر ڈالیان کے شپ یارڈ میں ایک بڑا بحری جہاز زیرِ تعمیر ہے، جس کا حجم امریکی جدید جیرالڈ فورڈ کلاس کے کیریئرز کے برابر ہو سکتا ہے۔

فروری میں سامنے آنے والی تصاویر میں ایسے ڈھانچے بھی دیکھے گئے جو جوہری ری ایکٹر کے حفاظتی حصوں سے مشابہ ہیں، جس سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ نومبر میں چین نے اپنے تیسرے طیارہ بردار جہاز فو جیان کو باضابطہ طور پر بحری بیڑے میں شامل کیا تھا، جس کی تقریب میں چینی صدر نے شرکت کی تھی۔ یہ جہاز جدید برقی مقناطیسی کیٹاپلٹ نظام (EMALS) سے لیس ہے، جو اس وقت صرف امریکی یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ میں استعمال ہوتا ہے۔

چین نے 2012 میں اپنا پہلا طیارہ بردار جہاز لیاؤ ننگ سروس میں شامل کیا تھا، جبکہ دوسرا جہاز شان ڈونگ 2019 میں مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button