پاکستان

JCP اقدام پر حکومت کی وضاحت: ججز کی منتقلی بطور سزا نہیں کی جا رہی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کی منتقلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کسی قسم کی “سزا” نہیں بلکہ ایک انتظامی اور روٹیشن پالیسی کا حصہ ہے، جس کا بار کونسلز بھی عرصہ دراز سے مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ JCP کے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہیں اور کمیشن کا کوئی بھی رکن دوسرے کا ماتحت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ججز پاکستان کے سروس اسٹرکچر کا حصہ ہیں، لہٰذا اگر افسران کا تبادلہ ہو سکتا ہے تو ججز کی منتقلی بھی ایک آئینی عمل کے تحت ممکن ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ جسٹس بابر ستار کا تحریری مؤقف کمیشن کے سامنے رکھا گیا تھا، تاہم آئین کے مطابق کسی جج کو سننا صرف اس صورت میں ضروری ہوتا ہے جب کمیشن مناسب سمجھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس پاکستان اجلاس کے حق میں نہ ہوتے تو وہ خود بھی اس میں شریک نہ ہوتے، اور اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ججز کی منتقلی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسٹس سمن رفعت امتیاز کا تعلق سندھ سے ہے، اس لیے انہیں واپس ان کے صوبے منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ ججز کی گردش (rotation) ضروری ہے تاکہ گروہ بندی نہ بن سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طویل تعیناتیوں کے باعث “جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں”، تاہم حکومت نے عدلیہ کی آزادی کو متاثر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قدغن لگائی ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب JCP نے اکثریتی فیصلے کے تحت جسٹس محسن اختر کیانی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس سمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائیکورٹ منتقل کرنے کی منظوری دی۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو عدلیہ کی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کی منتقلی عدالتی نظام میں تقسیم پیدا کر سکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button