کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا

خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو دوبارہ 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ یہ اضافہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں پیش رفت نہ ہونے اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث ہوا۔
اسی دوران ٹیکنالوجی اسٹاکس دباؤ کا شکار رہے جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ کارپوریٹ آمدنی اور شرح سود کے مستقبل کے امکانات پر مرکوز رہی۔
مشرق وسطیٰ جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار نظر آئیں۔ امریکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی حالیہ تجویز پر غور کر رہا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن اب شرائط طے نہیں کر سکتا۔
ایران نے دو ماہ قبل شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل کارروائی کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو بلاک کر رکھا ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے، اور اس سے عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
سی این این کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ قطر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی حتمی معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال “جمے ہوئے تنازع” میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھیں، جہاں برینٹ کروڈ جون کے معاہدے کے تحت 2.7 فیصد اضافے کے بعد 111.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) جون کے کنٹریکٹ کے تحت 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ 99.68 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں معاہدے کی امیدیں بڑھ رہی تھیں، تاہم ہفتے کے روز ٹرمپ کی جانب سے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کرنے کے بعد یہ امیدیں کمزور ہو گئی ہیں۔
ایکس ٹی بی ٹریڈنگ پلیٹ فارم کی ریسرچ ڈائریکٹر کیتھلین بروکس کے مطابق اس وقت مارکیٹ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے کسی معاہدے پر زیادہ اعتماد نہیں، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ایران نے جوہری تخفیف سے متعلق مذاکرات کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔